الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تنہا نماز اذان واقامت کے ساتھ

سوال

ایک شخص اپنے گھر میں نماز پڑھتا ہے اور نیت جماعت کی کر لیتا ہے اور جہری نماز میں قراءت بالجہر وتکبیرات انتقالات بالجہر کرتا ہے تو کیا اس شخص کو جماعت کا ثواب ہو جائے گا۔ جنگل میں تنہا اذان واقامت کہہ کر نماز شروع کرے اور آغاز میں تکبیر تحریمہ بھی بالجہر کہے یا نہیں؟

جواب

جماعت کو چھوڑ کر بلا عذر گھر میں یا جنگل میں تنہا اذان واقامت کہہ کر قراءت وتکبیرات انتقالات بالجہر کر کے نماز پڑھنے سے جماعت کا ثواب نہیں ہوگا البتہ جو شخص جماعت کا عادی ہو اور کسی مجبوری کی وجہ سے جماعت میں شریک نہ ہو سکے تو اس کو اپنی نماز بصورت جماعت ادا کرنا أفضل ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو