الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زچہ خانہ میں بچی یا عورت کا کان میں اذان دینا

سوال

زچہ خانہ میں تولد کے وقت اگر مرد نہ ہو تو عورتیں بچے کی اذان کہہ سکتی ہیں یا نہیں؟ یا نابالغ لڑکا یا لڑکی کہے تو کیا حکم ہے؟ حالت جنابت میں بچے کی اذان کہی جائے تو ہو جائے گی یا نہیں؟ یا وضو ہونا ضروری ہے؟

جواب

زچہ خانہ میں تولد کے وقت اگر کوئی مرد موجود نہ ہو تو عورت کو یہ اذان واقامت کہنا درست ہے۔ نابالغ سمجھدار بچہ بھی کہہ سکتا ہے۔ اگر کوئی نہ ہوتو بچہ کی ماں بھی کہ سکتی ہے اگر وہ حالت نفاس میں نہ ہو۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو