قرآن کے پارہ کو بغل میں دبا کر چلنا
سوال
زید قرآن پاک کے کسی جز کو بغل میں دبا کر مسجد سے باہر بغرض تلاوت لاتا ہے تو آیا یہ قرآن کے ساتھ سوء ادبی ہے یا نہیں؟
جواب
اگر بغل میں دبا کر سینہ سے لگا کر لاتا ہے تو سوء ادبی نہیں یہی عرف ہے ایک بزرگ نے قرآن کریم کی تفسیر لکھی اور فرمایا روز قیامت چون نهد در دست ہر کس نامئے من نیز حاضر می شوم تفسیر قرآن در بغل
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔