قرآن کریم میں تحریف کی علامات اور دلائل
سوال
عام طور پر مسلمان کا یہی عقیدہ ہے کہ قرآن میں کوئی تحریف واقع نہیں ہے۔ مگر ہم ذیل میں وہ اسباب درج کرتے ہیں جس سے شروع زمانہ میں قرآن میں تحریف واقع ہونے کے امکان کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ (۱) بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جو سورہ نمل کی تیسویں آیت کا جز اور وحی ہے۔ قرآن کی ترتیب دینے میں ہر سورت (سوائے سورہ توبہ کے) شروع میں اضافہ تحریر کیا گیا ہے تا کہ قرآن مجید خدا کا نام لے کر شروع کیا جائے۔ ورنہ وہ نہ وحی ہے نہ کسی سورت کی آیت ہے اور نہ قراءت نماز میں اس کا پڑھنا واجب ہے۔ (۲) يبصط (۲۴۵-۲) بصطة (۶۹-۷)
جواب
(۱) سورہ نمل میں بسم الله الرحمن الرحیم پوری آیت نہیں بلکہ آیت کا جز ہے اور ہر سورت کے شروع میں بسم الله الرحمن الرحیم پوری آیت ہے۔ اور بعض ائمہ نے اس کو ہر سورت کا جز قرار دیا ہے اس کی تفصیل احکام القرآن للجصاص اور احکام القنطره فی احکام البسملة (مولانا عبدالحی لکھنوی) میں ہے یہ تحریف نہیں ہے۔ (۲) ان الفاظ کا رسم الخط دونوں طرح ہے اور تلفظ بھی دونوں طرح ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔