طلاق پر شوہر کو دی ہوئی اشیاء کی واپسی کا حق
سوال
(۱) میرا عقد معین الدین سے ہوا تھا، چھ ماہ تک حالات خوشگوار رہے، اس کے بعد میرے شوہر نے مجھ سے ترش روئی اختیار کی، اخیر میں نوبت یہاں تک پہنچی کہ میرے شوہر مذکور نے سہ بار طلاق نامہ بذریعہ رجسٹر میرے نام روانہ کی، طلاق کے بعد میں والدین کے پاس رہی، پنچ کمیٹی نے میرے شوہر کو طلب کر کے یہ فیصلہ کیا کہ رقم مہر اور سامانِ جہیز میرے شوہر سے واپس دلوادیا، لیکن دیگر امور کی حد تک کوئی فیصلہ نہیں کیا، آیا میں رقم عدت پانے کی مستحق ہوں یا نہیں؟ (۲) رقم پارچه مبلغ چار سو پانچ روپے جو نوشہ کے لئے دئے گئے تھے۔ (۳)
جواب
(۱) اب اس کا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ (۲) وہ واپس لینے کا حق نہیں ہے۔ (۳) وہ بھی واپس لینے کا حق نہیں ہے۔ (۴) عدت شوہر کے مکان پر ہوتی تو یہ اخراجات خود ہی شوہر دیتا اب اس کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔ (۵) لڑکی باغ ہونے تک والدہ کے رہیگی، جب کہ والدہ کسی غیر جگہ اپنا نکاح نہ کرے، اور خرچہ حسب حیثیت والد کے ذمہ ہے، دودھ پلانے کا کوئی معاوضہ نہیں، الا یہ کہ مستقل معاملہ طے کر لیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔