الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مہر کے علاوہ کچھ رقم نکاح کے لئے شوہر پر ڈالنا

سوال

ایک منظم برادری کے کچھ لوگ برادری کے چودھری پر یہ الزام لگا کر دوسری برادری بنا لیتے ہیں کہ اس برادری کے چودھری نے ہماری قومی برادری کے اس شرعی فیصلہ کو کہ ناکح ومنکوحہ کے اولیاء دین مہر کے علاوہ نکاح کے لئے روپیہ وغیرہ کا لین دین کو روا رکھے کیونکہ یہ شرعاً حرام اور سخت مذموم اور مشرکوں کی رسم ہے، منسوخ کر دیا اور ایسے اشخاص سے جو اس لین دین کو روا رکھے شرعا ترک موالات کرنا چاہئے اور اس الزام سے چودھری کو نہایت رسوا اور بدنام کرتے ہیں جس سے ایک منظم برادری کے دو بڑے اور چھوٹے ٹکڑے ہو جاتے ہیں اور باہمی تنازع ہو…

جواب

(۱) مباح پر اصرار کا کسی کو حق نہیں کیونکہ اصرار سے وہ ممنوع ہو جاتا ہے۔ صرح بہ الشامی فی تنقيح الفتاوى الحامدیہ وغیرہ جو روپیہ بعض جگہ لڑکی والے طلب کرتے ہیں اور لڑکے والوں کو مجبوراً دینا پڑتا ہے اور بغیر اس روپیہ کے رخصت نہیں ہوتی تو یہ روپیہ لینا نا جائز ہے کیونکہ وہ رشوت ہے

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو