تحقیق کے بعد منکوحہ کا نکاح پڑھانا جرم نہیں
سوال
ایک شخص ایک مسجد میں امام ہے۔ دو آدمی امام کے پاس آئے اور وہ کہنے لگے کہ امام صاحب ہمارے یہاں چل کر ایک لڑکی کا نکاح پڑھادیجئے۔ جس پر امام نے یہ تحقیق کی کہ بیوہ عورت کا نکاح ہے یا کنواری لڑکی کا؟ انھوں نے کہا کنواری لڑکی کا نکاح ہے اور قسم کھا کر دونوں شخص کہنے لگے امام صاحب گھبراؤ نہیں یہ نکاح اس لڑکی کا پہلا نکاح ہے۔ اس کے برخلاف صورت یہ تھی کہ اس لڑکی کا نکاح نابالغی کی عمر میں پہلے کسی دوسرے سے ہو چکا تھا، جس کا علم امام صاحب کو نہیں تھا۔ اس بیان پر امام صاحب نکاح پڑھانے کے لئے چل دیئے۔
جواب
امام صاحب نے تحقیق کی متعدد آدمیوں سے دریافت کیا جب اطمینان ہو گیا تب نکاح پڑھایا اس لئے امام صاحب مجرم نہیں البتہ وہ نکاح صحیح نہیں ہوا جب کہ پہلے اس لڑکی کا نکاح ہو چکا ہے اور وہاں سے طلاق نہیں ہوئی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔