الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اندیشہ تقسیم وراثت سے نکاح نہ کرنا

سوال

دولڑکیوں کا باپ پہلے مر گیا تھا اور سوائے لڑکیوں کے اور کوئی لڑکا نہیں تھا اس کی عورت ابھی زندہ تھی تو وراثت کا شریعت کے اعتبار سے پنجاب میں رواج نہیں ہے تو خاوند نے زمین اور گھر چھوڑا اس کی مالکہ اس کی عورت تھی اس کے مرنے کے بعد اب صرف دولڑکیاں رہ گئیں وہ عاقلہ اور بالغہ ہیں ان کی منگنی والدہ نے اپنے بھائیوں کے لڑکوں کے ساتھ کر دی تھی۔

جواب

اگر واقعہ یہی ہے تو ماموں کی نیت صحیح نہیں لڑکیوں کو ماموں کے کہنے پر عمل نہ کرنا چاہئے بلکہ ان کو چاہئے کہ وہ سنت کے موافق نکاح کر لیں یا پھر اگر قانونی حیثیت سے لڑکیوں کا حصہ انھیں نہ ملتا ہو چچا کو ملتا ہو تو چچا کو لازم ہے کہ ان کا حصہ ان کے حوالہ کر دیں اس کو خود رکھنا حرام ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو