الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کیا امارت شرعیہ کا فیصلہ قضاء قاضی ہے

سوال

صوبہ بہار میں امارت شرعیہ قائم ہے، اور امارت شرعیہ کے زیر مختلف ضلع میں مختلف سب ڈویژن میں دارالقضاء قائم ہے اور قاضی مقرر ہے، ان عدالتوں میں فسخ نکاح وغیرہ کے مقدمات دائر ہوتے ہیں، اور قاضی دار القضاء مدعی اور مدعی علیہ کے بظاہر بیان ثبوت وشواہد سماعت فرما کر مقدمہ کا فیصلہ فرماتے ہیں، کیا ایسی صورت میں دارالقضاء کے حلقہ کے لوگوں کے لئے جائز ہے کہ دارالقضاء (جو عدالت شرعیہ ہے) سے روگردانی کر کے مسلم پنچایت بنا کر اپنے مقدمہ کی سماعت کراوے اور فیصلہ حاصل کرے جبکہ آج کل دور تشتت وانتشار سے گذر رہے ہیں۔ (۲)

جواب

امارت شرعیہ کا نظام نہایت بہتر نظام ہے، بہت سے شرعی اور معاشرتی مصالح کا حامل ہے، بیشمار مفاسد سے بچانے والا ہے، مسلمانوں کو چاہئے کہ بلاوجہ شرعی اس سے روگردانی نہ کریں، بلکہ وہیں اپنے مقدمات کا فیصلہ کرایا کریں، جہاں تک ہمیں معلوم ہے، یہ نظام ان اطراف کے اہل دانش اور سر بر آوردہ اہل علم حضرات نے بہت غور وخوض کے بعد دلائل شرعیہ کی روشنی میں قائم کیا ہے، اور اس سے بہت فائدہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو