امیر المومنین
سوال
(۱) موجودہ حالات میں اگر کسی صوبہ کا مسلمان اپنا کوئی امیر منتخب کر لیں تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہوگی، جب کہ اس کے پاس کوئی قوت نافذہ اجراء احکام وفرامین کیلئے موجود نہیں ہے، کیا ایسا امیر ہر مسلمان کے لئے شرعی حیثیت سے واجب الاطاعت ہے، اور کیا ہر ایک مسلمان کو شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوة والسلام کی رو سے ایسے امیر کے احکام وفرامین کی اطاعت وفرمانبرداری کرنی ضروری ہے؟ (۲)
جواب
اعلیٰ بات تو یہ ہے کہ اہل اسلام کے معاملات کا نظم ونسق ایک مرکز سے وابستہ ہو اور اس پر سب متفق رہیں، اور اپنے معاملات کچہریوں میں لیجانے کے بجائے، شریعت کی روشنی میں حل کرایا کریں، اس مرکز کی شاخیں جگہ جگہ قائم ہوں، اور سب کو مرکز ہدایات دے نگرانی کرے، اور اس مرکز کو پورا اقتدار پوری قوت حاصل ہو، اگر اس طرح اجتماعی ایک مرکز نہ بن سکے تو ہر صوبہ میں جدا گانہ مرکز بنا لیا جائے،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔