لڑائی میں جس طرح بھی مارا جائے گا وہ شہید ہے
سوال
اگر یہ کافر فرسی یا بھالوں سے آلۂ دھار دار سے شہید کر دیں تو غسل و کفن دیا جائے گا یا نہیں؟ بندوق وغیرہ کا کیا حکم ہے لڑائی کی ابتداء بھی مسلمانوں کی طرف سے نہیں بلکہ ظلماً مارے جاتے ہیں؟ (۲) اسی طرح کسی راہ گیر مسلمان کو موقع بموقع قتل کر رہے ہیں ان کو بھی غسل وکفن دیا جائے یا نہیں؟ تمام مسلمان حکام پاکستان چلے گئے ہیں ان کی جگہ ہندو یا سکھ تمام آگئے ہیں۔
جواب
عین لڑائی میں مسلمان مار دیا جائے خواہ کسی آلہ سے ہو وہ شہید ہے اس کیلئے غسل و کفن نہیں۔ (۲) اس کا بھی یہی حکم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔