میت کیلئے جلسہ تعزیت
سوال
آج کل یہ طریقہ رائج ہے کہ کسی دینی ادارہ یا کسی مسلم جماعت کا کوئی رکن انتقال کر جاتا ہے تو جب اس ادارہ یا جماعت کا جلسہ ہوتا ہے جس سے اس شخص کا تعلق ہوتا ہے، تو اس کیلئے تعزیت کی تجاویز منظور کی جاتی ہیں، اور اس کیلئے دعائے مغفرت کی جاتی ہے، جب کہ جلسہ تین دن کے بعد ہوتا ہے، اس طریقہ کیلئے شرعاً گنجائش ہے یا نہیں؟
جواب
یہ تعزیت شرعی تعزیت نہیں، بلکہ ادارہ یا جماعت کی طرف سے اظہار تعلق ہے اور اظہار ہمدردی کیلئے ہے، اس سے بھی تقویت پہنچتی ہے اور میت کے اعزہ کیلئے صبر و تسلی بھی فی الجملہ اس سے ہوتی ہے اسلئے شرعاً گنجائش ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔