تعزیتی جلسہ کا حکم
سوال
کسی لیڈر یا مذہبی پیشوا کے انتقال پر محض تعزیتی جلسہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اسی طرح کسی لیڈر یا پیشوا کے انتقال پر ایصال ثواب کے لئے لوگوں کو جمع کرنا ختم قرآن اور تعزیتی جلسہ دونوں چیز ایک ہی مجلس میں کرنا جائز ہے، یا نہیں؟ لوگوں کو جمع کرنے کی مختلف شکلیں ہوا کرتی ہیں، بعض جگہ اخبار بعض جگہ صدر مقام یا مسجد وغیرہ میں اعلان کر دیا جاتا ہے، نیز ایصال ثواب کا صحیح طریقہ پیش کرتے ہوئے سلف صالحین کا عمل بھی تحریر فرمائیں۔
جواب
کسی مسلم کے انتقال پر میت کے متعلقین کی تعزیت کرنا یعنی تلقین صبر وغیرہ کرنا سنت سے ثابت ہے۔ اگر وہاں خود جا کر تعزیت کا موقع نہ ہو تو خط کے ذریعہ سے بھی سلف صالحین سے تعزیت کرنا منقول ہے۔ جس کے انتقال سے بہت لوگوں کو صدمہ ہو یا بہت لوگ تعزیت کی ضرورت محسوس کریں اور سب کا پہنچنا دشوار ہو تو اس کیلئے سہل صورت یہ ہے کہ ایک جلسہ کر کے تعزیت کر دی جائے اس میں بڑی جماعت سفر کی زحمت…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔