چند مردوں کو ایصال ثواب کیا جائے تو تقسیم ہو کر پہنچتا ہے یا پورا پورا؟
سوال
ایک شخص اپنے والد کے ایصال ثواب کیلئے ایک روپیہ خیرات کرتا ہے یا چند مسکینوں کو کھانا کھلاتا ہے، اور ساتھ ہی یہ بھی نیت کرتا ہے، کہ والد کے علاوہ فلاں فلاں دوسرے اموات کو اس کا ثواب پہنچے۔ سوال یہ ہے کہ ایک روپیہ کا پورا ثواب اور اجر جو حق تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتا ہے، صورت مسئولہ میں وہ پورا باپ کو پہنچ کر دوسروں کو اس کے علاوہ ملے گا، یا اسی روپیہ کے ثواب سے جملہ اموات کو حسب حصہ سہام تقسیم ہوں گے اور دوسری اموات کے ملانے سے باپ کے حصہ میں کمی ہو جائے گی۔ حافظ نجیب خاں
جواب
اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے، بعض حضرات کی رائے ہے کہ حسب حصہ ثواب پہنچے گا، جیسا کہ کوئی شخص ایک روپیہ کے پیسے چند فقیروں کو تقسیم کر دے تو سب کو ایک ایک روپیہ نہیں پہنچتا بلکہ اس میں سے تقسیم ہو کر حسب حصہ پہنچتا ہے، بعض حضرات فرماتے ہیں کہ سب کو پورا پورا پہنچتا ہے، کیوں کہ اللہ کی رحمت وسیع ہے، وہ اگر سب کو ایک ایک روپیہ کا پورا پورا ثواب پہنچا دیں گے تو ان کے یہاں کچھ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔