تعزیہ گاہ میں نماز جنازہ
سوال
ایک شخص عاشورہ کے دن فوت ہوگیا ہے، جو نمازی اور اہل السنت والجماعت تھا اس کے ورثاء نے جنازہ کی نماز مقررہ جنازہ گاہ میں نہیں پڑھی اور جنازہ اس مقام پر لے گئے جہاں تعزیے نکلے ہوئے تھے، اور وہاں اہل تشیع ماتم کر رہے تھے، تو بعض ان میں سے آگئے اور جنازہ میں شامل ہو گئے اور نماز جنازہ اہل السنت والجماعت نے پڑھائی اور ورثاء یہ نیت بیان کرتے ہیں کہ وہاں مجمع کثیر تھا اسلئے وہاں لیگئے حالاں کہ شہر میں اہل السنت والجماعت کا وعظ ہورہا تھا، وہاں مجمع کثیر موجود تھا، اور ان کو پہلے جنازہ کی اطلاع بھی دی گئی تھی، انہوں نے کہا…
جواب
انہوں نے برا کیا ہے، اس فعل سے توبہ کرنی چاہئے جب نماز دوسری جگہ ہوسکتی تھی، اور مجمع کثیر کی شرکت کی بھی امید قوی تھی، تو جان بوجھ کر فسق و فجور کی جگہ میں جانے کی کیا ضرورت تھی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔