الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عالم دین کی گستاخی

سوال

اگر کوئی شخص کسی عالم پر از روئے عناد وکینہ کسی قسم کا جھوٹ یا تہمت لگائے اور عالم صاحب کی شان میں گستاخانہ کلمات استعمال کرے مثلاً فاسق یا فاجر تو اس شخص پر مطابق شریعت محمدیہ کیا حکم ہے؟

جواب

تہمت لگانا گناہ کبیرہ ہے، اور کسی دیندار کو فاسق وفاجر کہنا بھی سخت گناہ ہے، اگر عالم حقانی کی تحقیر اس کے علم دین کی وجہ سے کرتا ہے تو نہایت خطرناک ہے حتی کہ بعض فقہاء نے ایسے شخص کی تکفیر کی ہے پس ایسے شخص کو توبہ کرنا لازم ہے، جس کی شان میں بلا وجہ گستاخانہ الفاظ کہے ہیں اس سے معاف کرانا ضروری ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو