الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

استاذ کی گستاخی اور توہین

سوال

اپنے استاذ کو ایک شخص نے کہا کہ استاذ کافر ہے مسلمان نہیں ہے، اُن کی قرآن خوانی اور نماز کی ادائیگی کا کوئی اعتبار نہیں، دشنام طرازی کے علاوہ مار پیٹ بھی کی یہ شخص اسکے خاندان کا سات پشتوں سے استاذ رہا ہے، خود یہ شخص تارک صلوٰۃ ہے، ایسے شخص کیلئے شرعاً کیا حکم ہے؟ اور ایسے شخص کیلئے شرعاً کیا تعزیر ہے؟ فقط

جواب

استاذ کا بہت بڑا حق ہے اس کا احترام لازم ہے، اس کے ساتھ گستاخی کرنا منع ہے بلا وجہ شرعی کسی مسلمان کو کافر کہنے سے اس کہنے والے کا ایمان سلامت نہیں رہتا، بغیر عذر کے جان کر فرض نماز کو ترک کرنا جبکہ قضا پڑھنے کی بھی نیت نہ ہو اور اس پر خوف عقاب بھی نہ ہو نہایت خطرناک ہے، حدیث وفقہ میں اس کو کفر سے تعبیر کیا گیا ہے، ایسے شخص کو توبہ کرنا لازم اور استاذ سے معافی مانگنا ضروری ہے،…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو