اللہ تعالیٰ کو گالیاں دینا اور رمضان کے روزہ کی توہین کرنا
سوال
موضع پنجو چک پٹھان کوٹ میں بروز جمعہ شریف مسلمان روزہ داروں کی ایک مجلس ہو رہی تھی یعنی جمعہ کی نماز وغیرہ نیک کاموں کیلئے جانا تھا، دن کے پورے دو بجے کا ٹائم تھا، کہ ایک صاحب داماد حسین بخش پورہ گوجر بیڑی تمباکو پیتا ہوا دھواں نکالتا ہے، حاضرین مجلس نے بلکہ خود فقیر نے کہا کہ دیکھو تم کو اول بروئے شرع مطہرہ روزہ رکھنا چاہئے تھا کیوں کہ تم وطنی ہو یعنی اپنے گھر میں مقیم ہو، اس بنا پر تم پر روزہ رمضان شریف رکھنا واجب العین ہے تو داماد حسین بخش پورہ مسلمانوں کے سامنے وہ الفاظ بکتا ہے جو حسب ذیل تحریر ہیں۔ (۱)
جواب
شخص مذکور نے الفاظ بہت سخت کہے ہیں ایسا کہنے سے ایمان سلامت نہیں رہتا اس کو ضروری ہے کہ فوراً توبہ استغفار کرے تجدید ایمان کرے اور نکاح بھی دوبارہ کرے، اگر وہ اس کیلئے آمادہ نہ ہو تو مسلمانوں کو چاہئے کہ اس سے تعلق قطع کر دیں تا کہ اس کے خراب عقائد سے متاثر نہ ہوں اور وہ تنگ آکر اپنی اصلاح پر آمادہ ہو جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔