الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

Ответственность спрашивающего за точность вопроса

سوال

سوال کو صحیح صحیح لکھنا مستفتی کی ذمہ داری ہے مفتی کا جواب تو سوال پر ہی مرتب ہوتا ہے، اگر کوئی شخص سوال غلط اور خلاف واقع لکھ کر مفتی سے جواب حاصل کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کے دربار میں مجرم ہوگا، مثلاً اگر کوئی شخص یہ کہے کہ زید نے اپنی بیوی کو تین طلاق دیدی، اور اس پر مفتی نے جواب دیا کہ زید پر اس کی بیوی حرام ہوگئی، تو اس سے وہ حرام جب ہوگی، کہ طلاق دی ہو، ورنہ وہ حرام نہیں ہوگی، یا مثلاً کوئی شخص خنزیر کے گوشت کے متعلق یہ کہے کہ یہ بکری کا گوشت ہے، اور مفتی فتویٰ دیدے کہ یہ حلال ہے، تو اس سے وہ بکری کا گوشت بن کر…

جواب

لا مذہب کا جواب دینا بیکار ہے کیونکہ وہ کسی دلیل کو تسلیم نہیں کرے گا بلکہ شیطان کا وجود ہی نہ مانے گا۔ اگر آپ کو شبہ ہو تو فرمائیے، جواب دے دیا جائے گا، بیضاوی شریف پر نہایت تفصیل سے اس کا جواب لکھا ہے اور لامذہب سے مناظرہ کرنا فروعی امور میں قطعی مفید نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو