الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

Проповедник без благих дел и укор младшего брата

سوال

ایک شخص عالم دین ہیں مگر بے عمل اور اکثر برائیاں اس کے اندر پائی جاتی ہیں یہ شخص کبھی کبھی وعظ و تقریر بھی کرتا رہتا ہے۔ بعد نماز جمعہ بھی وعظ کہتا ہے۔ ایک مرتبہ اس نے وعظ کا اعلان کیا مگر اس کا چھوٹا بھائی مقابلہ کے لئے کھڑا ہو گیا اور کہا کہ کیا تم اس قابل ہو کہ وعظ کہو۔ تو کیا اس حالت میں وہ وعظ سے رک جائے۔ اگر خدا تعالیٰ نے قیامت میں پوچھ لیا کہ جب تم کو علم دین دیا تھا تم نے کیوں نہیں پہونچایا۔

جواب

بڑے بھائی جبکہ عالم بھی ہیں تو چھوٹے بھائی کو ان کا دوہرا احترام لازم ہے۔ جو طریقہ چھوٹے بھائی نے استعمال کیا ہے نہایت غلط اور مذموم ہے۔ لازم ہے کہ بڑے بھائی سے معافی مانگے اور آئندہ ایسی حرکت سے اجتناب کرے۔ بڑے بھائی کو جہاں اسکا خیال ہے کہ اپنے علم سے مخلوق کو نفع نہ پہونچانے کی صورت میں جواب طلب کیا جائیگا وہاں اپنی اصلاح کی بھی فکر و کوشش لازم ہے، انسان کتنا ہی بڑا عالم ہو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو