الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نرسری اسکول اور عیسائی معلمات

سوال

سائلہ کی استدعاء ہے کہ امور مندرجہ ذیل میں شریعت حقہ کی روشنی میں رائے عالی سے مطلع فرمائیں۔ برائے بنات ایک قومی تعلیمی ادارے کی خدمت انتظامیہ ایک نسواں کمیٹی کے سپرد ہے جس کی خدمت صدارت میں اٹھارہ سال سے انجام دے رہی ہوں اور پورے زمانہ خدمت میں ادارہ کے تمام امور متعلقہ حدود شریعت پاک کی روشنی میں ترک و اختیار کرنے کی کوشش کی گئی۔ ادارہ مذکورہ سے متعلق شعبہ تربیت گاہ اطفال بھی قائم ہے جس میں ۳ تا چھ ۶ رسال تک بچوں کو ابتدائی معلومات دین ودنیا کی بابت کھیل ہی کھیل میں ضروری امور ذہن نشین کرا دیئے جاتے ہیں۔

جواب

اس سے بڑی مسرت ہوئی کہ اس ادارہ کے تمام امور متعلقہ حدود شریعت پاک کی روشنی میں ترک و اختیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ اور زیادہ پابندی کی توفیق دے، معلمہ موصوفہ عیسائی کے تقرر کے وقت بھی تو اولاً یہی کوشش کی گئی ہوگی اب کیا وجہ پیش آئی کہ اس کے متعلق استفسار کیا جا رہا ہے کیا وقت تقرر اس مسئلہ کی تحقیق نہیں کی گئی اور بلا تحقیق معصوم بچوں کی تربیت و تعلیم کو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو