مدرسة البنات سے متعلق بعض سوالات
سوال
کیا سلف نے دینی مدرسہ عورتوں اور بچوں کے متعلق قائم کیا ہے؟ (۲) اس دور میں جبکہ طلباء و طالبات اسکولوں و کالجوں میں داخل ہوئے دینی مدارس کا قیام درست ہے؟ (۳) ایسے مدرسہ میں بغیر محرم کے قیام شرعاً کیسا ہے؟ (۴) اس وقت کوئی مدرسہ ایسا قائم کریں جہاں بچیاں قیام کر کے تعلیم حاصل کر سکیں۔ نیز دین کی حفاظت لڑکیوں میں کس طرح ممکن ہے؟ (۵) لڑکیوں کا وعظ کرنا بذریعہ لاؤڈ اسپیکر کیسا ہے؟ (۶) عورتوں کی اصلاح کا بہترین طریقہ اس زمانہ میں کون سا ہے؟
جواب
(۱) سلف صالحین میں بچوں کو دینی تعلیم دینے کا عام رواج تھا کہ ماں باپ یا دیگر اعزہ خود تعلیم دیا کرتے تھے۔ ان کے لئے مستقل مدارس یا ادارے نہیں تھے (۲) غلط تعلیم اور اس کے اثرات سے بچوں کو روکنے اور محفوظ رکھنے کیلئے اب بھی یہی صورت اختیار کی جائے کہ جب تک سیانی نہ ہوں ان کی تعلیم کیلئے مستقل ادارہ بھی کھولا جا سکتا ہے جس میں ان کی تعلیم بھی ہو اور تربیت بھی ہو۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔