الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طبیہ کالج میں داخلہ پردہ نشین لڑکی کے لئے

سوال

میری ہمشیرہ مذہبی خاندان سے نہایت پاکیزہ اور اعلی تعلیم یافتہ صوم وصلوٰۃ کی پابند اور غیر شادی شدہ، خوبصورت اور پردہ نشین ہے جو بمبئی میں مقیم ہے، یہ اعلی تعلیم کے لئے طبیہ کالج اسپتال میں حکمت کے کورس میں داخلہ لینا چاہتی ہے۔ طبیہ کالج میں اکثر اساتذہ مرد ہیں اور طلبہ میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ لڑکیاں کلاس میں برقعہ اوڑھ کر بیٹھیں تو سختی نہیں ہے مگر نقاب نہیں ڈال سکتیں، چہرہ کھلا رہے گا۔ بعد میں دو سال تک مریضوں پر عملی تشخیص بھی کرائی جائیگی جہاں مرد مریضوں کا معائنہ کرنا ضروری ہوگا۔

جواب

طریقہ مذکورہ پر داخلہ لے کر تعلیم اور ڈگری حاصل کرنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔ یہی حکم دیگر میڈیکل کالجوں کا ہے۔ لڑکوں اور لڑکیوں کی مخلوط تعلیم اور بے پردہ ملاقات، بودوباش مرد اساتذہ کا ان کو تعلیم دینا، ان کا مریض مردوں پر عمل تشخیص کرنا یہ سب چیز غلط ہے۔ ان سے پورا پرہیز لازم ہے شادی کا معاملہ جس طرح خدا کے ہاتھ میں ہے اسی طرح ہر معاملہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو