درجہ حفظ سے انگریزی تعلیم میں جانا / دنیوی تعلیم کے نتائج
سوال
(۱) بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ بی۔ اے، ایم، اے پڑھ کر اکثر لڑکے بگڑ جاتے ہیں، کیا ان کے کہنے سے شریعت اسلامی یہ بتلاتی ہے کہ اسے اعلیٰ تعلیم نہ دی جائے یا دنیوی تعلیم نہ دی جائے، اگر دی جائے تو کس طریقہ سے؟ (۲) اس نازک دور میں دنیوی تعلیم دلوانا جائز ہے یا نا جائز؟ ان تمام سوالوں کے جدا جدا جواب دے کر اس کا کوئی نیک حل نکالا جائے۔ خدا تعالیٰ آپ کے عظیم ارادوں کو دائمی قائم رکھے اور علماء دین کی اللہ تعالیٰ ہر طرح سے امداد فرمائے۔آمین ! ان سوالوں کے جواب آسان اردو میں تحریر فرمائیں۔
جواب
ایسی تعلیم دلانا جس کے اثر سے بچے بگڑ جائیں اور دین سے بے تعلق ہو کر بے دین بن جائیں (عقائد، اخلاق، اعمال خراب ہو جائیں) جائز نہیں، یہ ان کے ساتھ خیر خواہی نہیں بلکہ ان کو تباہ اور برباد کرنا ہے۔ اس بگاڑ سے حفاظت کا انتظام ہو جائے تو دنیوی تعلیم بھی درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔