الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسائل اختلافیہ پر غور وفکر کرنے کے لئے چند اصول موضوعہ

سوال

ایک صاحب نے حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم کی خدمت میں چند سوالات ارسال کئے تھے اور لکھا تھا کہ ثبوت مدعا کے لئے صرف صحاح ستہ ہی کی احادیث پیش کی جائیں، حضرت مفتی صاحب مدظلہ نے ان کے سوالات کے تفصیلی جوابات تو دیئے نہیں اس لئے کہ وہ مسائل ایسے معرکۃ الآراء اور مختلف فیہ تھے کہ دونوں طرف کے علماء نے اس مضمون پرمستقل کتابیں تصنیف کی تھیں، اس پر مزید کچھ لکھنا وقت کی بربادی کے سواء اور کوئی خاص افادیت نہیں رکھتا۔ ایسے اصول تحریر فرما دیئے کہ جو کسی بھی مسئلہ کے سمجھنے کے لئے کلید کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جواب

انداز سوال سے مفہوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی اس کے متعلق سوال کر کے کوئی جواب حاصل کیا گیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو بہتر ہوتا کہ وہ سوال و جواب بھی ہمرشتہ ارسال کر دیا جاتا۔ نوعیت سوال کے پیش نظر جواب کا بدل جانا کچھ مستبعد نہیں۔ موجودہ سوال کا جواب نمبر وار تحریر ہے۔ (۱) جائز نہیں (۲) اجازت ہے (۳) مضر و منوع ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو