بے عمل لوگوں کا یہ کہنا کہ فلاں فلاں کہیں گے تو عمل کریں گے
سوال
اگر کوئی بستی یا گاؤں ایسا ہو کہ وہاں پر مسلمانوں کے ۵۰٫۴۰ گھر ہوں، اور وہاں پر نہ کوئی مسجد ہو اور نہ کوئی عالم ہو تو کیا وہ بستی والے گنہگار ہوں گے۔ یا اگر کسی بستی یا گاؤں میں مسجد ہو اور ایسی بستی کے اندر ۱۵۰ یا ۲۰۰ مسلمانوں کے گھروں کی آبادی ہو اور وہاں پر سب جانتے ہیں کہ نماز فرض ہے اور روزہ بھی فرض ہے اور زکوۃ، حج بھی فرض ہے اور مثال کے طور پر ۲۰۰ کی بستی ہے۔ اس میں ۱۰۰ / مسلمان مرد عورت کو نمازوں وغیرہ کا درست طریقہ معلوم ہے اور کچھ زیادہ احکام سے بھی واقف ہیں۔
جواب
جس بستی میں مسلمان موجود ہوں ان کو چاہیے کہ حیثیت کے مطابق وہاں مسجد کا انتظام کریں اور نماز باجماعت ادا کر لیا کریں۔ قدرت کے باوجود ایسانہ کرنے سے وہ گنہگار ہوں گے۔ ہر بستی میں جہاں مسلمان کافی تعداد میں ہوں عالم کا ہونا بھی ضروری ہے جو شرعی احکام بتایا کرے۔ بچوں کی تعلیم کا انتظام بھی ضروری ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔