الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عالم دین کو کوتاہی پر ٹوکنا

سوال

ایک عالم دین کی اگر فرائض و شرائط وضو میں اور شرائط نماز فرائض نماز میں اگر عملاً کوتاہیاں ہوں تو بحیثیت عالم دین ہونے کے نہیں ٹوکنا چاہیے، چونکہ وہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔ یا خلاف شرع امور میں خطائے بزرگان گرفتن خطا است“ کا مصداق ہونے کا خطرہ تو نہیں ہوگا۔ جیسا کہ پاره ۲۴ رسورہ مومن کے رکوع ار کے حاشیہ پر کسی نے ایک حدیث کی امام نووی کی شرح لکھی ہے کہ کسی حق بات کے معلوم کرنے کی نیت سے یا صحیح مسئلہ دریافت ہو جانے کی غرض سے اختلاف ہو تو جائز ہے، شریعت میں مخالفت نہیں، اس میں کونسی بات درست ہے؟

جواب

جو بات کسی عالم دین کو اپنی معلومات کے خلاف نظر آئے، جس سے شبہ پیدا ہوا ہو کہ یہ عالم صاحب غلطی پر ہیں یا اپنے کو غلط علم ہے اسکے متعلق ان عالم صاحب سے دریافت کر لیا جائے کہ زید نے یہ مسئلہ بتایا ہے یہ صحیح ہے یا غلط ہے۔ اس طرح اصل مسئلہ کی تحقیق بھی ہو جائے گی اور ان عالم صاحب پر اعتراض بھی نہ ہوگا۔ اگر وہ غلطی پر ہوں گے تو ان کی اصلاح کی طرف بھی توجہ ہو جائے گی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو