رکشہ کا کرایہ مقرر نہیں کیا گیا
سوال
ایک دفعہ سفر میں رکشہ والے سے کرایہ کے سلسلے میں معاملہ نہ ہوا بلکہ یہ مقامی صاحب سے معمول کے مطابق کرایہ کیا ہے، پوچھ کر دیا گیا، رکشہ والے نے لینے سے انکار کیا، بلکہ دو گنا دینے کو کہا، مگر احقر نے مقامی صاحب کی بات کو صحیح سمجھ کر صرف ایک گنا کرایہ ہی دیا، مگر درمیان میں ایک صاحب نے کہا کہ جو صاحب رکشہ کا کرایہ بتلاتے ہیں، ان کے پاس جاؤ، اگر وہ بھی مناسب سمجھیں تو اس کو مزید کرا یہ دو، تو وہ صاحب بات کو سمجھے نہیں، بلکہ وہ ایک گنا اور دیدئیے رکشہ والا ان سے لے کر خاموش بیٹھ گیا، احقر کو معلوم ہوا تو رکشہ والے…
جواب
یہ اصولی غلطی آپ نے کی کہ رکشہ والے سے پہلے پیسہ طے نہیں کئے، بلکہ کرایہ مجہول رکھا، جس سے نزاع پیدا ہوا، شریعت کا حکم ہے کہ کرایہ صاف کر لیا جائے، مجہول نہ رکھا جائے، اگر وہاں کا کرایہ مشہور و معروف یا میونسپلٹی کی طرف سے مقرر شدہ ہے، جو اس نے وصول کرلیا ہے تو اب واپس لینے کا حق نہیں رہا تھا، جس قدر اس سے واپس لیا ہے، وہ اس کو دوبارہ دیدیا جائے، اگر کرایہ وہ ہے جو آپ نے تجویز…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔