مختار عام کا معاوضہ اگر طے نہ کیا ہو کیا ملے گا
سوال
ایک خاتون مسماۃ عامرہ نے ایک شخص زید کو اپنی جائیداد کے حصول تحفظ مقدمات اور معاملات کو طے کرانے کے لئے بغیر کسی معاوضہ خدمت طے کئے ہوئے اپنا مختار عام بنایا، اور زید نے اس امید پر کہ موصوفہ معاوضہ تو ضرور دے گی، حالانکہ موصوفہ مسماۃ عامرہ مجھ زید کو ادا کریں گی ہی، مختار عام بننا منظور کر لیا، جب کہ زید دوسری جگہوں پر پانچ سوا پانچ سو روپیه ماہوار پر اسی قسم کی خدمت انجام دے رہا تھا، زید نے موصوفہ عامرہ کی جائیداد پر لوگوں کے غاصبانہ قبضہ سے واگزار کرایا ثالثی اور مقدمات میں پیروی کی اور واگذاری جائیداد کے بعد…
جواب
اگر زید یہ کام معاوضہ پر کرتا ہے، اور دوسرے لوگ بھی اس سے یہ کام معاوضہ پر لیتے ہیں، تو خاتون مذکورہ کے ذمہ بھی اس کا معاوضہ (اجر مثل) لازم ہوگا، جیسے کوئی وکیل پیشہ وکالت کرتا ہے، اور محنتانہ لیتا ہے، اگر اس کے پاس کوئی شخص پیروی کے لئے مقدمہ لے جائے، اور معاوضہ طے نہ کرے تب بھی وکیل معاوضہ کا مستحق ہے، جیسے ایک شخص درزی کے پاس جا کر کپڑا سلوائے اور درزی معاوضہ پر ہی کپڑا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔