پانچ سال کی بچی کو زمین ہبہ کر کے اس کا قبضہ نہ دینا
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین کہ مسماۃ رؤفن نے اپنی زمین اپنی سگی بہن کی لڑکی صمیدہ کو بیع نامہ رجسٹری کرایا بطور ہبہ، جس وقت پانچ سال کی صمیدہ تھی رؤفن لا ولد ہے اب صمیدہ بالغ ہے تقریباً ۲۵ سال کی ہے، اس نے اپنی خالہ سے مطالبہ کیا کہ اب مجھے زمین پر قبضہ دو رؤفن نے کہا ابھی نہیں دوں گی، جب میرا انتقال ہو جائیگا، پھر تم اس زمین کی مالک ہوگی میں نے اسی نیت سے تم کو زمین دی تھی، اس پر صمیدہ نے وکیل سے مشورہ کر کے دوسرے شخص مطلوب کے ہاتھ اس زمین کو بیع کر دیا، اور اسی زمین کو صمیدہ کے باپ شفاعت نے صمیدہ…
جواب
بیع اور ہبہ دونوں الگ الگ ہیں۔ رؤفن نے اگر بطور ہبہ یہ زمین صمیدہ کے نام کی ہے، اور قبضہ نہیں دیا، تو ہبہ تام نہیں ہوا۔ روفن کی ملک باقی ہے، صمیدہ کا اس کو مطلوب کے ہاتھ فروخت کرنا غلط ہے، اسی طرح صمیدہ کے والد کا اس پر دعوی ملکیت بھی غلط ہے، ہبہ کر کے یعنی بلا قیمت دیکر اس کا نام قانونی طور پر بیع رکھنا شرعاً بے سود ہے اور ظاہر یہی ہے کہ پانچ سال کی بچی سے بیع کا معاملہ نہیں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔