حج بدل میں کیا نام لینا ضروری ہے
سوال
حج بدل میں لبیک پڑھتے وقت جس کی جانب سے حج بدل کیا جاتا ہے، اس کا نام بھی لبیک میں ملانا ضروری ہے، اگر ضروری ہے تو اس کی کیا صورت ہوگی؟ پوری تفصیل سے لکھیں، اور کس جگہ تلبیہ میں نام لیا جائے، اور پورا تلبیہ لکھ کر بھیجیں تا کہ حج بدل، صحیح ہو جائے، عام طور پر لوگ جاتے ہیں اور اپنی ذاتی حج کی طرح نسبت وغیرہ کرتے ہیں؟
جواب
کوئی ضروری نہیں ہے، دل میں یہ نیت کافی ہے کہ فلاں شخص کی طرف سے احرام باندھتا ہوں، اگر احرام کے وقت اس کی طرف سے احرام کی نیت نہیں کی اور اعمال حج شروع کر دیئے تو حج بدل صحیح نہیں ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔