الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تاش کا کھیل

سوال

ایک آدمی یہ کہتا ہے کہ میں صرف دل کو بہلانے کے لئے تاش کھیلتا ہوں، جس میں کسی بھی قسم کی کوئی شرط نہیں رکھی جاتی، جیسا کہ دوسرے کھیل ہیں مثلاً فٹ بال، اور والی بال، ہاکی، کرکٹ وغیرہ تو اس کے غلط ہونے کی کیا وجہ ہے جبکہ اس میں کوئی شرط وغیرہ نہیں لگائی جاتی تو کیا اس کے لئے تاش کھیلنا اس صورت کے ساتھ جائز ہے؟

جواب

کرکٹ، ہاکی، وغیرہ میں ایک غرض صحیح کے پیش نظر اجازت ہے، (یہ سب ممنوع محض نہیں) بخلاف تاش کے کہ اس میں یہ غرض صحیح موجود نہیں نیز یہ دوسروں کے لئے ذریعہ قمار بن سکتا ہے

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو