الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کشتی چلانے میں مقابلہ کرنا

سوال

بعض جگہ کشتیاں چلائی جاتی ہیں، اس غرض سے کہ دیکھیں کہ کون اپنی کشتی کو آگے نکالے، جو آگے نکلے اس کو انعام دیا جاتا ہے، اور بعض مرتبہ بغیر انعام کے بھی کشتیاں چلائی جاتی ہیں، کہ دیکھیں کون کشتی میں آگے نکلے، شرعاً یہ فعل کیسا ہے؟

جواب

اگر محض لہو ولعب کے لئے ایسا کرتے ہیں تو شرعاً ممنوع ہے، اگر اس سے مقصود یہ ہے کہ جہاد میں بسا اوقات دریائی سفر اور کشتیاں چلانے کی نوبت آتی ہے، اسکے لئے مشق کر لی جائے، تو یہ ممنوع نہیں، بلکہ پسندیدہ ہے، بشرطیکہ انعام کوئی تیسرا دے۔ کذا يفهم من مجمع الانهر - ج ۲ ص ۵۴۹

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو