الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

گڑیوں سے کھیلنا

سوال

ایک شخص گڑیاں بناتا ہے، اور اپنی شاگرد لڑکیوں کو دیتا ہے اور زیور وغیرہ بھی لا کر دیتا ہے، گڑیوں کو پہنانے کے لئے، اور اگر کوئی منع کرتا ہے تو لڑکیوں کے کھیل کے لئے جائز قرار دیتا ہے، اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے فعل سے استدلال کرتا ہے، اور یہ شخص امامت بھی کرتا ہے، دریافت طلب یہ امر ہے کہ گڑیوں کا بنانا اور لڑکیوں کا ان سے کھیلنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی گڑیاں کیسی تھیں، کپڑے کی یا لوہے، تانبے، پتیل، مٹی کی، اور پھر ان میں ہاتھ، پاؤں، آنکھ، ناک، منہ وغیرہ اعضاء موجود تھے، یا نہیں؟ جب تک مستدل ان چیزوں کی تحقیق نہ کرے اسوقت تک زمانۂ مروجہ کی گڑیاں بنانے اور فروخت کرنے پر استدلال درست نہ ہوگا، تصویر جاندار کی بنانے اور رکھنے سے خواہ کپڑے کی ہو خواہ کسی اور شئی کی، احادیث میں صریح ممانعت ہے، حضرت…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو