یٰسین نام رکھنا
سوال
میرا نام محمد یسین ہے احکام شریعت اول میں مولوی احمد رضا خانصاحب نے یٰسین نام رکھنے کو منع لکھا ہے، دلیل یہ پیش کی ہے کہ نامعلوم المعنی پڑھنا جائز نہیں ہے، اسی طرح نامعلوم المعنی نام رکھنا بھی جائز نہیں، اس کے علاوہ احکام القرآن ابن عربی کی اور نسیم الریاض شرح شفاء قاضی عیاض کے حوالہ سے دو حدیثیں نقل کی ہیں، جس کی رو سے یٰسین نام رکھنا ممنوع قرار دیا ہے، اگر احمد رضا خانصاحب کا فتوی آنجناب کی نظر میں صحیح ہے تو پھر بندہ کو نام تبدیل کرنے میں کوئی عذر نہیں؟
جواب
جس شخص کو کسی لفظ کے معنی کا علم نہ ہو اس کے نزدیک وہ لفظ نامعلوم المعنی ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ نفس الامر میں (کسی لغت کے اعتبار سے یا محاورہ اور عرف کے اعتبار سے) بھی نا معلوم المعنی ہی ہو، عدم علم کا علاج سوال ہے ”فاسئلوا اهل الذكر ان كنتم لا تعلمون“ (الایۃ) انما شفاء العی السوال (الحدیث)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔