الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سفیہ کا مال کب اس کے حوالے کیا جائے؟

سوال

زید کا انتقال چند سال قبل ہوا، اس کے اموال و جائداد بین الورثہ اب تک تقسیم نہیں ہوئے۔ اب تقسیم ہونے والے ہیں۔ وارثین میں ایک اس کی بہن بھی ہے اور وہ سفیہ ہے یعنی خیر وشر کے امتیاز کی طاقت نہیں رکھتی۔ وہ اپنی سفاہت اور چند لالچ مندوں کی تحریص کی وجہ سے پورے اموال کو ضائع کر دے گی اس کا قوی اندیشہ ہے۔ لہذا سوال یہ ہے کہ تقسیم کے وقت اس کے حصہ کے مال کو اس کے حوالہ کئے بغیر اس کے اولیاء یعنی اس کی اولاد کے حوالہ کرنے کی شرعی اجازت ہے یا نہیں؟ سفیہ کے شرعی معنی کیا ہیں؟ اور کن حالتوں میں مضر ثابت ہوتا ہے؟

جواب

اگر شرعی طریقہ پر بہن وارث ہے اور وہ سفیہ ہے، اپنے مال کو بے محل ضائع کر دینے کا قوی مظنہ ہے تو جو اہل فہم اہل دیانت اس کے حق میں خیر خواہ ہوں اس کی ضروریات کو دیکھ کر سمجھ کر مناسب طور پر انتظام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو خاندانی لوگ باہمی مشورہ سے اس کے حوالہ کردیں۔ وعندهما يحجر على الحر بالسفه والغفلة وبه اى بقولهما يفتى صيانة لماله (درمختار)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو