کیا سحر ابھی بھی باقی ہے؟
سوال
امام مالک اور امام محمد اور ہمارے اصحاب سے مروی ہے کہ ساحر کافر ہے اور ابن ہمام فتح القدیر میں لکھتے ہیں: السحر حرام بلاخوف والمستفاد اباحة كفر الخ حضرت محمد ﷺ پر بھی سحر کیا گیا تھا تمام اقوال کے دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ سحر ابھی تک باقی ہے ایک شخص کو اعتراض ہے کہ سحر کو محمد ﷺ مٹانے آئے تھے مٹ گیا اگر کوئی کہے کہ سحر ابھی تک باقی ہے تو وہ محمد ﷺ کی شان پر دھبہ سا دیا تو اس شخص سے سوال یہ ہے کہ اگر سحر باقی ہوتا تو امام اور فقہاء کیوں اس کے ناجائز و حرام ہونے کا فتوی دیتے پھر نبی ﷺ بت پرستی کو بھی مٹانے آئے تھے…
جواب
سحر مٹانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کو دنیا سے فنا کر دیا گیا یہ واضح فرمانا مقصود ہے کہ سحر بدتر چیز ہے اس سے پورا پرہیز لازم ہے یہی حال کفر کا ہے کہ اس کے مٹانے کا مقصود بھی اس کی قباحت اور برائی کو واضح فرمانا ہے اور اس کے لئے جہاں تک ہو سکے جدو جہد کرنا ہے حضرت نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ سے کفر دنیا سے ختم نہیں ہو گیا تھا البتہ جزیرہ عرب میں اسلام کا غلبہ اور تسلط ہو چکا تھا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔