جفر شرعی حجت نہیں
سوال
ایک شخص ہمارے گاؤں میں آیا ہے اور وہ ہمارے گاؤں اور شہر کے دورے پر ہے وہ بوہرہ جماعت سے تعلق رکھتا ہے اور مسلمانوں کی مسجدوں میں نماز پڑھ لیتا ہے۔ اس نے کویت دیش میں جا کر چند سال سیر کی ہے اور وہاں علم جفر کی تعلیم پائی ہے، جس کے ذریعہ یہ نئے نئے شعبدے عوام کے سامنے پیش کرتا ہے۔ یہ لوگوں کے ماضی کے حالات کسی حد تک بالکل صحیح بتاتا ہے اور کچھ مستقبل کے بھی حالات بتا دیتا ہے، جس کی وجہ سے دیندار مسلمان بھی اس کے شیدا ہو گئے اور یہ دھوکہ بڑی زور سے ہر طرف پھیل رہا ہے، اس کا کہنا ہے کہ علم (جفر)
جواب
علم جفر کی نہ قرآن کریم نے تعلیم دی۔ نہ حضرت نبی اکرم ﷺ نے تعلیم دی نہ صحابہ کرام نے اسکو سیکھا نہ محدثین نے اس کی طرف توجہ دی، نہ فقہاء اور اولیاء کرام نے اس کو قابل التفات سمجھا۔ بلکہ کتب فقہ الاشباه والنظائر و در مختار وغیرہ میں اس کے سیکھنے کو منع کیا ہے یہ شرعی حجت نہیں، نہ اس کے ذریعہ سے کسی کا جرم ثابت ہوتا ہے نہ براءت اگر کوئی شخص علم جفر کے ذریعہ کسی کو چور بتائے تو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔