الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سحر کا اثر اور ساحر کا حکم

سوال

زید وجع المفاصل کی بیماری میں چار ماہ سے بیمار رہا، علاج کرتا رہا مگر بے سود بعض لوگوں نے خیال کیا کہ کسی نے جادو کیا ہے۔ مکان کی تلاشی لی گئی اور کچھ تعویذ نکل آئے جس کے بعد مریض کو افاقہ ہوا۔ ایک صاحب نے اپنے عمل (جادو) سے رکھنے والے کو معلوم کیا جو اس گھر کی رہنے والی ہندہ ہے مگر وہ اس فعل سے انکار کر رہی ہے مریض اس کے بعد بھی سخت بیمار رہا۔ ۱۔ کیا جادو کے ذریعہ بیمار ہونا شرعاً درست ہے؟ ۲۔ بغیر دیکھے تعویذ رکھنے والے کو معلوم کرنا ممکن ہے؟ ۳۔ اگر جواب اثبات میں ہو تو تعویذ رکھنے والے کے لئے شرعاً کیا حکم ہے؟ ۴۔

جواب

۱۔ شرعاً یہ محال نہیں بلکہ ممکن ہے۔ ۲۔ عملیات کے ذریعہ یہ بھی ممکن ہے لیکن بغیر حجت شرعیہ کے شرعاً مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ ۳۔ جب تک وہ عورت اقرار نہ کرے یا شرعی شہادت سے ثبوت حاصل نہ ہو، اس کو سزا دینا درست نہیں۔ ۴۔ جو لوگ سحر (جادو) کے منکر ہیں ان کا یہ انکار اہل سنت والجماعت کے خلاف ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں ہندہ کو کوئی سزا نہیں دی جا سکتی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو