الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غیر مسلم اور فاسق کو ابتدا بالسلام اور آداب، عرض نمستے کا حکم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کفار کو سلام کے الفاظ

سوال

غیر مسلم کو سلام کرنے کا کیا حکم ہے؟ اگر ان کے مجمع سے گذر ہو تو ان کو سلام کیا جائے یا نہیں؟ (۲) آداب عرض نمستے وغیرہ جو کلمات ان کی طرف سے بطور سلام استعمال ہے ان کا جواب کیسے دیا جائے؟ (۳) جناب رسول اللہ ﷺ کن کلمات سے کفار کو سلام کرتے اور کیسے جواب دیتے تھے؟ (۴) کفار کو السلام علیکم کے ساتھ سلام کر سکتے ہیں یا نہیں؟ (۵) فساق و فجار کا کیا حکم ہے، ان میں ابتدا بالسلام کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہ کیا جائے تو بداخلاقی و تکبر ہے اس سے بچنے کی کیا صورت ہے؟

جواب

جو کلمات ان کے یہاں بطور سلام مستعمل ہوتے ہیں ان کو نہ ابتداء کہے نہ جواباً۔ وقت ضرورت ان کو السلام على من اتبع الهدى سے خطاب کرنا درست اور ثابت ہے۔ اگر وہ السلام علیکم کہیں تو جواب میں وعلیکم کہہ دیا جائے۔ (۲) اگر وہ اپنے کلمات نمستے وغیرہ کہیں تو جواب میں هداك الله اور سلام کہد یا جائے، فقط سلام کہد ینا بھی درست ہے۔ (۵) سلام تحیہ ہے جس سے اکرام و تعظیم کے ساتھ دعا مقصود ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو