استنجاء سکھاتے ہوئے سلام کا جواب
سوال
زید پیشاب کے بعد یا قضاء حاجت کے بعد ڈھیلا سکھا رہا تھا، اس حالت میں عمر نے اس کو سلام کیا، تو زید سلام کا جواب دے سکتا ہے یا نہیں؟ (۲) حدیث شریف میں جو حالت استنجاء میں سلام اور بات چیت کی جو ممانعت ہے اس سے کونسی حالت اور کونسا وقت مراد ہے؟ (۳) عمر کہتا ہے کہ فتاوی رشیدیہ میں کلوخ سکھاتے وقت سلام کا جواب دینے کو جائز قرار دیا ہے، کیا عمر کا کہنا صحیح ہے؟
جواب
(۱) اگر اس کو قطرہ نہیں آرہا ہے محض احتیاطاً سکھا رہا ہے تو جواب دیدیے ورنہ نہیں۔ (۲) جبکہ قضائے حاجت میں مشغول ہو۔ (۳) فتاوی رشیدیہ کا حاصل جواب کی شق اول مراد ہے یعنی جبکہ محض احتیا طا سکھا رہا ہو ”سلامک مکروه الى قوله ومن هو في حال التغوط اشنع قال الشامي مراده ما يعم البول اه“. (ردالمحتار ج ۱ / ص ۴۱۵)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔