الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ناراضگی کی وجہ سے ترک سلام کی مدت

سوال

زید اور عمر دونوں کا رہنا سہنا ایک ساتھ تھا۔ بعد میں کسی بناء پر دونوں لڑ گئے۔ اور زید نے عمر سے یہ کہہ دیا کہ تیرا آج سے مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ تم میری کوئی چیز استعمال کرنا اور نہ میں تمہاری کوئی چیز استعمال کروں گا۔ لیکن ناراضگی کو تین دن گزرنے ہی نہیں پائے تھے کہ عمر نے زید سے سلام کر لیا مگر زید نے کوئی جواب نہیں دیا اب شرعاً گناہ کس پر ہے؟ کیا عمر زید سے سلام کرتا رہے؟

جواب

تعلق رکھنے میں اگر فتنہ ہو تو زیادہ میل جول نہ رکھا جائے مگر سلام نہ ترک کیا جائے اگر ایک ان میں سے سلام کرتا ہے تو وہ بری الذمہ ہو جائے گا۔ دوسرا اگر جواب نہیں دے گا تو وہ ذمہ دار رہے گا تاہم اگر وہ منع کر دے کہ مجھے سلام مت کرو تمہارے سلام سے تکلیف ہوتی ہے تو پھر سلام نہ کرے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو