چچا کو باپ کہنا
سوال
ایک شخص کے چھ لڑکے ہیں۔ ایک لڑکے کا انتقال ہوا جس کے تین بچے ہیں جو اپنے چچا کے پاس رہتے ہیں۔ چچا ہی ان کے کھانے پینے اور رہائش کے ذمہ دار ہیں۔ اور بھتیجوں کو اپنی اولاد کی طرح رکھتے ہیں۔ اور وہ بھتیجے بھی چچا کو باپ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں آیا اس طرح ان بچوں کا چچا کو باپ کہہ کر مخاطب کرنا شرع سے جائز ہو سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
چچا کو مجازاً باپ کہہ سکتے ہیں، خصوصاً جبکہ وہ پرورش وغیرہ کے بھی ذمہ دار ہیں، اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔ والجد والعم يسميان ابا مجازاً - (روح المعاني ص ۵۰۷ ج ۲)۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔