قبلہ وکعبہ وغیرہ بعض خطابات کا حکم
سوال
متعلقہ خطابات جیسے (۱) قبلہ و کعبہ (۲) قبلہ عالم (۳) حکیم الامت (۴) حکیم الاسلام (۵) کعبہ دو جہاں (۶) قبلہ کو نین فلاح دارین (۷) قبلہ مقصود حیات (۸) اعلیٰ حضرت۔ یہ کہنا یا خط و کتابت میں تحریر کرنا یا پتھر پر کندہ کر دینا مثلاً بزرگوں کے مزار پر ان کی یادگار کے لئے جو پتھر نصب کیا جاتا ہے یہ جائز ہے یا نا جائز؟
جواب
اپنے بڑوں کی خاص کر ان بڑوں کی جن سے فیض پہونچا ہو تعریف کرنا فطری اور احسان شناسی ہے جو کہ موجب خیر و ترقی ہے۔ لیکن حد سے بڑھانا اور غلط تعریف کرنا منع ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے اپنے متعلق بھی تعریف میں مبالغہ کرنے کو منع فرمایا ہے۔ پس (۱) و (۲) و (۵) و (۶) و (۷) والے القاب سے احتراز کیا جائے، ان کی زندگی میں بھی بعد الوفات بھی، زبان میں بھی تحریر میں بھی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔