الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

خالہ زاد، ماموں زاد بھائی وغیرہ سے پردہ

سوال

ہمارے یہاں اجتماع میں قرآن پاک کا ترجمہ سنایا جاتا ہے، ایک روز پردہ کا ذکر بھی سنایا گیا، پردہ کا ذکر سنتے ہی عورتیں پریشان ہوگئیں، کیونکہ قرآن کریم کا حکم اٹل ہے، اب یہ تمام عورتیں دریافت کرتی ہیں، کہ ہم تمام منہ ڈھانک لیں یا صرف نگاہیں نیچی کر لیں؟ ہم لوگ سید ہیں سب سے پردہ کرتی ہیں لیکن ماموں کے بیٹے چچا اور خالہ کے بیٹے سے پردہ نہیں کرتی ہیں، اور سسرال میں دیور، جیٹھ، نندوئی سے پردہ نہیں رکھتی اور کہتی ہیں کہ یہ سب تو گھر کے ہیں، ان سے کیا پردہ صرف نگاہ کا پردہ کافی ہے۔

جواب

دیور، جیٹھ، نندوئی، بہنوئی،خالہ زاد، ماموں زاد، پھوپھی زاد، سب سے پردہ لازم ہے، اگر مکان تنگ ہو تو اتنا پردہ کافی ہے کہ چہرہ نہ کھولا جائے، گھونگھٹ کر لیا جائے، بے تکلفی ہنسی مذاق نہ کیا جائے، ایک جگہ تنہائی نہ ہونے پائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو