الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جوان بیٹی، باپ، بہن بھائی کا ایک بستر پر سونا

سوال

جوان بیٹی کا باپ کے ساتھ ایک ہی چار پائی پر یا بستر پر ایک ساتھ لیٹنا، سونا از روئے شرع کیا حکم ہے؟ اسی طرح جوان بھائی بہن کا اور اسی طرح جوان بیٹے اور باپ کا ہمراہ لیٹنا اور سونا از روئے شرع کیسا ہے؟ خلاف شرع ہونے کی صورت میں عتاب الہی کی کیا صورت و اقسام ہیں؟

جواب

ہرگز اجازت نہیں، یہ سب الگ الگ سویا کریں،حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ جب بچے سیانے ہو جائیں ان کے بستر الگ الگ کر دو، حدیث پاک کے خلاف کرنے کا نتیجہ یہاں بھی برا ہے، اور آخرت میں بھی برا ہے کوئی عارضی وجہ ہو مثلاً کوئی اتنا بیمار ہے کہ بغیر ماں، بہن، بیٹی کے وہ چین سے لیٹ نہیں سکتا اور خدمت کے لئے ان کی ضرورت ہے، تو مجبوری کا حکم دوسرا ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو