الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نامحرم ملازم سے پردہ

سوال

زید اپنی بیوی کا فرمانبردار ہے، اور اپنی بیوی کے واسطے ایک نامحرم شخص کو ملازم رکھا ہے، جو ہر وقت اس کی خدمت میں یعنی کھانا پکانا اور جھاڑو لگانا، اور گھر کے کام میں مشغول رہتا ہے، اور وہ دونوں میاں بیوی بیوقوف بتلاتے ہیں، اور بچہ کہتے ہیں، حالانکہ اس کی مونچھیں نکلنی شروع ہوگئی ہیں، اور اس کی عمر بلوغت کو پہنچ چکی ہے، کیا اپنے آرام کی خاطر اس کا گھر میں بے روک ٹوک جانا درست ہے؟

جواب

نامحرم سے پردہ کرنا ضروری ہے، اور جب وہ ملازم ہے گھر کا کام بھی کرتا ہے، تو بسا اوقات اس سے خلوت اور تنہائی کی بھی نوبت آتی ہوگی، عورت کو نامحرم کے ساتھ خلوت اور تنہائی کرنا حرام ہے، لہذا اس ملازم کو علیحدہ کر کے کسی عورت یا نا بالغ یا کسی محرم کو ملازم رکھا جائے، ورنہ اس سے با قاعدہ پردہ کرنا چاہئے، اس کے سامنے چہرہ کھول کر بے پردہ آنا اور اس کو مکان میں بے پردہ بلانا جائز…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو