انگوٹھی اور گھڑی کی چین
سوال
مذکورہ بالا احادیث میں نہی اور ممانعت صرف تختم تک محدود ہے یا چاندی سونے کے علاوہ دوسری دھاتوں سے بنی ہوئی تمام چیزوں کو شامل ہے، خواہ وہ چیزیں خاتم کی شکل میں ہوں، یا اور کسی زیور کی شکل میں، اگر یہ نہی صرف تختم تک محدود نہیں، تو پھر آج کل اسی سے گھڑیوں کے لئے عموماً چین استعمال کی جاتی ہے، جو سفید ہے یا سنہری، بہر صورت وہ مختلف قسم کی دھاتوں سے تیار ہوتی ہے، لہذا سوال یہ ہے کہ اس قسم کی چین مذکورہ بالا احادیث نہی کے تحت داخل ہو کر ممنوع ہے یا نہیں؟ (۲)
جواب
عبارات منقولہ سے معلوم ہوا کہ تختم دوسری دھاتوں کی مرد و عورت سب کے لئے منع ہے، عورت کے لئے ذہب و فضہ دونوں کی اجازت ہے، مرد کے لئے تحلی یعنی تزین خواہ بشکل خاتم ہو یا کسی اور شکل میں ہو، صرف فضہ مخصوص مقدار تک درست ہے، حلیۃ السیف والمنطقہ کی بھی قیود کے ساتھ اجازت ہے، جوشن کی بھی حرب میں اجازت ہے، دستی گھڑی کی چین ذہب وفضہ کے علاوہ جس دھات کی بھی ہو وہ خاتم کے حکم میں نہیں،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔