الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عورتوں کو نیم آستین کا کرتا پہننا

سوال

عورتوں کا یہ فیشن ہو گیا کہ بغیر آستین کے قمیص پہنتی ہیں، بعض نمازی عورتوں نے بھی یہ طریقہ اختیار کر لیا ہے، کہ چولی جو بے آستین قمیص کے سبب تنگ اور کوتاہ ہوتی ہے، پہن کر سارا جسم کپڑوں سے ڈھانک کر نماز پڑھتی ہیں، دریافت یہ ہے کہ ہر وقت یا کبھی کبھی بے آستین قمیص پہننا جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا اس طرح نماز ہو جاتی ہے؟

جواب

نماز میں سارا جسم ڈھانکنا ضروری ہے، صرف چہرہ دونوں ہاتھ گٹوں تک دونوں قدم کھلے رکھنے کی اجازت ہے (شامی) اگر نیم آستین قمیص کے اوپر اسطرح چادر اوڑھ کر نماز پڑھی جائے کہ سب جسم پوشیدہ رہے تو نماز ہو جائیگی ہاتھ کا کہنی تک یا اوپر تک اپنے محرم باپ بھائی وغیرہ کے سامنے کھل جائے، تو اس پر پکڑ نہیں لیکن نامحرم سے پردہ مکمل لازم ہے، جیسے چچا زاد بھائی، خالہ زاد بھائی، ماموں زاد…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو