مسنون لباس
سوال
زید کہتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نصف ساق کرتا اور چھوٹی مہری والا پائجامہ ثابت نہیں لہذا یہ بدعت ہے، اور یہ بھی کہا کہ اس قسم کا لباس سلف صالحین نے اسلامیت اور کفاریت کے درمیان فرق کرنے کے لئے اختیار کیا ہے، زید کا قول صحیح ہے، یا نہیں؟ اور عمر کہتا ہے کہ اگر چہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں لیکن جو حضرات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر ہر ہر سنت پر عمل کرنے والے ہیں وہ تو بغیر ثابت شدہ شئی پر عمل نہیں کریں گے، لباس مسنونہ مع حوالہ و دلیل مطلوب ہے؟
جواب
نصف ساق تک کرتہ حدیث شریف سے ثابت ہے، اس کو صالحین نے اختیار کیا ہے، پائجامہ پہننے کا عرب میں عام دستور نہیں تھا، بلکہ لنگی کا دستور تھا، اور وہ بھی نصف ساق تک ہوتی تھی، اس کی بھی حدیث شریف میں تصریح ہے، نصف ساق سے نیچے تک بھی اجازت ہے لیکن ٹخنوں سے اونچی رہے ”عن ابي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما اسفل من الكعبين من الازار في النار .
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔